حشاشین (Assassins) جس کو باطنیان بھی کہتے ہیں۔ایک دہشت پسند اور خفیہ جماعت تھی جس کی بنیاد حسن بن صباح نے رکھی۔ اور انکا مرکز" الموت" میں قلعہ الموت تھا۔ اس جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔ جس نے قلعہ الموت کو فتح کرکے حسن بن صباح کے آخری جانشین رکن الدین کو گرفتار کرلیا اور ہزاروں فدائیوں کو بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا۔
قلعہ الموت (Alamut Castle) بحیرہ قزوین کے نزدیک صوبہ جیلان، ایران میں ایک پہاڑی قلعہ تھا۔ یہ موجودہ تہران، ایران سے تقریبا 100 کلومیٹر (60 میل) کے فاصلے پر ہے۔ حسن بن صباح کی قیادت میں یہ دہشت پسند اور خفیہ جماعت حشاشین (Assassins) کا مرکز رہا۔ اس قلعہ اور جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔
حشاشین کی ابتدا کے شواہد 1080ء میں ملتے ہیں۔ حشاشین کے ماخذ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ایک دشوار کا م ہے کیونکہ زیادہ تر معلومات ان کے مخالفین کے حوالے سے ہیں۔ اور 1256 ءمیں ہلاکو خان کے ہاتھوں قلعہ الموت کی فتح کے وقت اس تنظیم کے بارے میں اکثر معلومات بھی ضائع ہو گئیں۔ البتہ حسن بن صباح کے اس تنظیم کے بانی ہونے کے بارے میں شواہد موجود ہیں۔
حسن بن صباح کی تنظیم میں درجہ بندیاں تھیں۔ اور اس کے ادبی کارکنان جن کو مہلک قاتلوں کی حیثیت سے تربیت دی جاتی تھی انہیں فدائی کہا جاتا تھا جو کہ حشاشین کے نام سے مشہور تھے۔ یہی لفظ حشاشین انگریزی لفظ (Assassins) کی بنیاد ہے۔
تنظیم کے حشاشین نام کی وجہ یہ تھی کہ حسن بن صباح اپنے فدائیوں کو حشیش پلا کر انھیں فردوس کی سیر کراتا تھا۔ جو اس نے قلعہ الموت میں بنائی تھی۔ اور اس کے بعد ان فدائیوں سے مخالفیں کو قتل کرایا جاتا تھا۔
حشاشین کا بانی حسن بن صباح قم ’’مشرقی ایران‘‘ میں پیدا ہوا۔ باپ کوفے کا باشندہ تھا۔ 1071ء میں مصر گیا اور وہاں سے فاطمی خلیفہ المستنصر کا الدعاۃ بن کر فارس آیا۔ اور یزد ، کرمان ، طبرستان میں فاطمیوں کے حق میں پروپیگنڈے میں مصروف ہوگیا۔ کہتے ہیں کہ نظام الملک اور عمر خیام کا ہم سبق تھا۔ مگر بعد میں نظام الملک سے اختلاف ہوگیا تھا۔ چنانچہ ملک شاہ اول نے اس کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ اس نے 1090ء میں کوہ البرز میں الموت کے قلعے پر قبضہ کر لیا جو قزوین اور رشت کے راستے میں ہے۔ کئی دوسرے قلعے بھی اس کے قبضے میں آگئے۔
اس نے اپنے آپ کو "شیخ الجبال" نامزد کیا اور قلعہ الموت کے پاس کے علاقے میں چھوٹی سی آزاد ریاست قائم کر لی ۔اور حشاشین تحریک کا آغاز کردیا۔ پھر اپنے پیروؤں کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ اس میں داعی اور فدائی بہت مشہور ہیں۔ فدائیوں کا کام تحریک کے دشمنوں کو خفیہ طور پر خنجر سے ہلاک کرنا تھا۔
بہت سے مسلمان اور عیسائی فدائیوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ دہشت انگیزی کی یہ تحریک اتنی منظم تھی کہ مشرق قریب کے سبھی بادشاہ اس سے کانپتے رہتے تھے۔
کہتے ہیں کہ حسن بن صباح اپنے فدائیوں کو حشیش ’’گانجا‘‘ پلا کر بیہوش کر دیتا تھا اور پھر انھیں فردوس کی سیر کراتا تھا۔ جہاں پر خوبصورت عورتوں کو حوریں بنا کر ان فدائیوں کے سامنے پیش کرتا ۔ وہ حوریں ان کو حسن بن صباح کے حکم پر فدا ہونے کا کہتیں اوروعدہ کرتی کہ تم جلد ہمارے بیچ ہمیشہ کے لئے پہنچ جاؤ گے بھر نہ تمہیں کو ئی غم ہوگا نہ کو ئی ملال۔
اس نے یہ جنت وادی الموت میں بنائی تھی۔
حسن بن صباح نے طویل عمر پائی اور اس کے بعد بزرگ امیر اُس کا ایک نائب اس کا جانشین ہوا۔ اس جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔ جس نے قلعہ الموت کو فتح کرکے حسن بن صباح کے آخری جانشین رکن الدین کو گرفتار کرلیا اور ہزاروں فدائیوں کو بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا۔
کتاب فردوسِ ابلیس.. عنایت اللہ التمش..