مصنف: abdul qayyum
تاریخ: 15 فروری 2026
تعارف: گردے، جسم کے خاموش ہیرو
ہمارے گردے، جو کہ مٹھی کے سائز کے دو چھوٹے اعضاء ہیں، ہمارے جسم کے خاموش ہیرو ہیں۔ یہ خون کو صاف کرتے ہیں، فالتو مادوں کو خارج کرتے ہیں، اور جسم میں پانی و نمکیات کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے، آج کل گردوں کی ناکامی کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کی بنیادی وجوہات کیا ہیں اور ہم طبِ نبوی کی روشنی میں کیسے اپنے گردوں کی حفاظت کر سکتے ہیں؟ آئیے جانتے ہیں!
گردوں کی ناکامی کی بڑھتی ہوئی وجوہات: جدید طرزِ زندگی کا اثر
گردوں کی ناکامی ایک سنگین طبی حالت ہے جس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ہمارے جدید طرزِ زندگی اور خوراک کے انتخاب نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہاں چند اہم وجوہات بیان کی گئی ہیں:
1. ذیابیطس (شوگر): گردوں کا سب سے بڑا دشمن
ذیابیطس گردوں کی ناکامی کی سب سے عام وجہ ہے۔ خون میں شوگر کی زیادہ مقدار گردوں کے ننھے فلٹرز کو نقصان پہنچاتی ہے، جس سے ان کی خون صاف کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ اگر شوگر کنٹرول نہ کی جائے تو یہ نقصان وقت کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے اور گردے مکمل طور پر کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
2. ہائی بلڈ پریشر: خاموش قاتل
بلڈ پریشر کا مسلسل زیادہ رہنا بھی گردوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ ہائی بلڈ پریشر گردوں میں موجود خون کی باریک نالیوں کو سخت اور تنگ کر دیتا ہے، جس سے خون کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے اور گردے اپنا کام صحیح طریقے سے انجام نہیں دے پاتے۔
3. خود ادویاتی اور درد کش ادویات کا بے جا استعمال
آج کل لوگ معمولی درد یا تکلیف پر ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر درد کش ادویات (جیسے آئبوپروفین، ڈکلوفینک) کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ ان ادویات کا طویل اور بے جا استعمال گردوں کو شدید اور ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
4. ناقص خوراک اور غیر صحت مند طرزِ زندگی
نمک کا زیادہ استعمال، پراسیسڈ فوڈز، اور پروٹین سے بھرپور غذاؤں کا بے تحاشا استعمال، خاص طور پر پانی کی کم مقدار کے ساتھ، گردوں پر غیر ضروری بوجھ ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ، موٹاپا بھی ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کا باعث بنتا ہے، جو بالواسطہ طور پر گردوں کی خرابی کا سبب بنتے ہیں۔
5. پانی کی کمی (Dehydration): ایک نظر انداز شدہ خطرہ
جسم میں پانی کی مناسب مقدار کا نہ ہونا گردوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے گردے خون سے فالتو مادوں کو مؤثر طریقے سے خارج نہیں کر پاتے، جس سے زہریلے مادے جسم میں جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
6. گردے کی پتھری: بروقت علاج ضروری
گردے کی پتھری اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو پیشاب کی نالی میں رکاوٹ پیدا کر سکتی ہے، جس سے گردوں پر دباؤ بڑھتا ہے اور وہ خراب ہو سکتے ہیں۔
طبِ نبوی اور دیسی علاج: قدرتی شفا کی راہیں
طبِ نبوی اور طبِ یونانی میں گردوں کی صحت کو برقرار رکھنے اور ان کی بیماریوں سے بچنے کے لیے کئی مؤثر طریقے اور نسخے موجود ہیں۔ یہ طریقے قدرتی اجزاء پر مبنی ہوتے ہیں اور ان کے مضر اثرات کم ہوتے ہیں۔
1. مہندی کا پانی (Henna Water): گردوں کا قدرتی ڈیٹاکس
مہندی کا پانی گردوں کی صفائی اور انفیکشن سے بچاؤ کے لیے انتہائی مفید سمجھا جاتا ہے۔ رات کو 8 سے 10 گرام خشک مہندی کے پتے دو گلاس پانی میں بھگو دیں اور صبح نہار منہ یہ پانی پی لیں۔ یہ جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرنے اور گردوں کے افعال کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔
2. کلونجی (Black Seed): ہر مرض کی شفا
کلونجی کو ہر بیماری کا علاج کہا گیا ہے۔ مہندی کے پانی کے ساتھ کلونجی کا استعمال اس کی تاثیر کو معتدل کرتا ہے، کیونکہ مہندی کی تاثیر سرد ہوتی ہے۔ ایک چمچ پسی ہوئی کلونجی مہندی کے پانی کے ساتھ استعمال کی جا سکتی ہے۔
3. شہد (Honey): قدرت کا انمول تحفہ
شہد ایک قدرتی شفا بخش غذا ہے۔ اسے مہندی کے پانی میں شامل کر کے پینے سے نہ صرف ذائقہ بہتر ہوتا ہے بلکہ اس کے صحت بخش فوائد بھی بڑھ جاتے ہیں۔
4. گوکھرو (Puncture Vine): پتھری کا قدرتی حل
گوکھرو ایک جڑی بوٹی ہے جو پیشاب آور خصوصیات رکھتی ہے اور گردے کی پتھری کو تحلیل کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یہ طبِ یونانی میں گردوں کی مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
5. جوارش زرونی سادہ (Jawarish Zarooni Sada): مثانے اور گردوں کا محافظ
یہ ایک پولی ہربل فارمولیشن ہے جو گردوں اور مثانے کی صحت کے لیے مفید ہے۔ یہ پیشاب آور خصوصیات رکھتی ہے اور گردوں کے افعال کو بہتر بناتی ہے۔
6. متوازن خوراک اور طرزِ زندگی: صحت مند گردوں کا راز
•نمک کا کم استعمال: نمک کی زیادہ مقدار بلڈ پریشر بڑھاتی ہے جو گردوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
•پانی کا زیادہ استعمال: روزانہ 8 سے 10 گلاس پانی پینا گردوں کو صاف رکھنے اور ان کے افعال کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔
•پراسیسڈ فوڈز سے پرہیز: مصنوعی اجزاء اور زیادہ نمک والے پراسیسڈ فوڈز سے بچیں۔
•متوازن پروٹین: پروٹین کی مناسب مقدار لیں، زیادہ پروٹین گردوں پر بوجھ ڈال سکتی ہے۔
•طالبینہ (جو کا دلیہ): جو کا دلیہ مجموعی صحت اور گردوں کے لیے بہترین غذا ہے۔
احتیاطی تدابیر: گردوں کی حفاظت آپ کے ہاتھ میں
گردوں کی بیماریوں سے بچنے کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں:
•ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھیں۔
•ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر درد کش ادویات کا استعمال نہ کریں۔
•صحت مند اور متوازن غذا کھائیں۔
•روزانہ مناسب مقدار میں پانی پئیں۔
•باقاعدگی سے ورزش کریں۔
•اپنے وزن کو کنٹرول میں رکھیں۔
صحت مند گردے، صحت مند زندگی
گردوں کی ناکامی ایک سنگین مسئلہ ہے، لیکن مناسب احتیاطی تدابیر اور بروقت علاج سے اس سے بچا جا سکتا ہے۔ جدید طبی علاج کے ساتھ ساتھ طبِ نبوی اور دیسی علاج کے طریقوں کو اپنا کر بھی گردوں کی صحت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ صحت مند طرزِ زندگی اور متوازن خوراک گردوں کی حفاظت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اپنی صحت کا خیال رکھیں، کیونکہ صحت ہی سب سے بڑی دولت ہے۔
