*یو اے ای کے قرض کی واپسی کا مطلب کیا ہے؟*
برادر اسلامی ملکوں کا پاکستان نے ہمیشہ احترام کیا ہے۔ اب بھی کر رہا ہےا ور آئندہ بھی کرے گا۔ یو اے سے سے بھی اچھے تعلقات ہی رکھے گا لیکن یہ بتا دیا گیا کہ ہم جب بطور ریاست فیصلے کرتے ہیں تو ساڑے تین ارب ڈالر کی لیوریج پر نہیں کرتے، ہم اپنے مفاد میں اپنے فارن پالیسی بناتے ہیں۔ پیغام یو اے سی سے بہت آگے تک پہنچا دیا گیا ہے کہ پاکستان کی پالیسی ساڑھے تین ارب ڈالر کی یرغمال نہیں بن سکتی۔
کیا اس فیصلے سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ پاکستان تنہا ہو رہا ہےاور اس کے دوست ممالک اس سے اپنے پیسے واپس مانگ رہے ہیں یا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان درست سمت میں ٹھیک اور باوقار فیصلے کر رہا ہے؟ اس فیصلے سے پاستان کی مشکلات بڑھیں گی یا کم ہوں گی؟ اس طرح کے بہت سارے سوالات ہیں جن کا جواب تلاش کرنے لیے ضروری ہے کہ معاملے کا سیاق و سباق سمجھ لیا جائے ۔ جب معاملہ سمجھ میں آ جائے گا تو معلوم ہو جائے گا کہ معاشی ، تزویراتی ، سفارتی ، ہر اعتبار سے پاکستان کا فیصلہ کتنا بروقت ، کتنا درست اور کتنا شاندار ہے ۔
سوالات کی طرف بعد میں جائیں گے پہلے سیاق و سباق جان لیتے ہیں کہ معاملہ کیا ہے۔ چند باتٰیں سمجھنے کی ہیں۔
پہلی بات یہ کہ پاکستان نے یو اے ای سے 3 اعشاریہ 5 ارب ڈالر کا قرض لیا تھا ، بھیک نہیں لی تھی ۔ یو اے ای نے یہ قرض اللہ کی رضا کے لیے نہیں دیا تھا بلکہ اس پر6 فیصد سود وصول فرمایا ہے۔ قرض کا ایک حصہ تو ایسا ہے تو قریب 30 سالوں سے واجب الادا ہے۔ یعنی اتنے عرصے سے ہر سال کا 6 فیصد سود دیا جا رہا ہے۔ جمع تقسیم آپ خود کر لیجیے کہ کتنے سالوں میں کتنا سود دیا جا چکا۔ کسی نے کسی پر کوئی احسان نہیں کیا تھا ۔ دنیا اسی مالیاتی اصول پر کھڑی ہے ۔ نہ یو اے ای کسی کو قرض دے کر حاتم طائی کو شرمندہ کرنے والا دنیا کا پہلا ملک ہے نہ ہم اس سے قرض لینے والا پہلا ملک تھے۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ قرض ہر سال رول اوور ہوتا تھا۔ اب آ کر یہ ہوا کہ یو اے ای نے اسے سال کے لیے رول اوور کرنے کی بجائے مہینے مہینے کے لیے رو ل اوور کر رہا تھا۔ سادہ لفظوں میں اس کا مطلب یہ سمجھیے کہ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ چلیے اس سال کے لیے بھی یہ قرض آپ رکھ لیجیے اور اب کہا جا رہا تھا کہ نہیں صرف ایک مہینہ مزید رکھ لیجیے ۔ ایک ایک مہینے کی مہلت تو شرفا اپنے انفرادی معاملات میں بھی کچھ مناسب نہیں سمجھتے کجا یہ کہ ریاست کسی دوسری ریاست کو کہے کہ یہ قرض ایک مہینے مزید اپنے پاس رکھ لو اور مہینہ گزر جائے تو پھر ہمارے حضور ہیش ہو جاؤ تا کہ ہم فیصلہ کریں کہ اگلے ماہ تمہیں یہ قرض رکھنے دینا ہے یا نہیں۔
پاکستان نے جواب میں کوئی تلخی نہیں کی ، کوئی فقرہ نہیں اچھالا ، باہمی احترام پر کوئی آنچ نہیں آنے دی ، عزت داروں کی طرح کہہ دیا کہ ہم سارا قرض واپس کرتے ہیں اور ایک ہی ماہ میں کرتے ہیں۔ پاکستان نے گویا بتا دیا کہ ہم معاشی طور پر مسائل کا شکار ضرور ہیں لیکن ہم قرض پر سود تو دے سکتے ہیں ، قرض کے عوض اپنی خارجہ پالیسی اور فیصلہ سازی کا حق نہیں دے سکتے۔ فیصلے ہم کسی کے قرض کی مجبوری دکھ کر نہیں کریں گے ، فیصلے ہم اپنے قومی مفاد میں ہی کریں گے۔ آپ کے دوست بھلے تل ابیب سے دلی تک ہوں گے لیکن ہمیں قرض دینے والا ہم سے سود لے تو لے ، فیصلہ سازی کا حق ہم سے نہیں لے سکتا۔
برادر اسلامی ملکوں کا پاکستان نے ہمیشہ احترام کیا ہے۔ اب بھی کر رہا ہےا ور آئندہ بھی کرے گا۔ یو اے سے سے بھی اچھے تعلقات ہی رکھے گا لیکن یہ بتا دیا گیا کہ ہم جب بطور ریاست فیصلے کرتے ہیں تو ساڑے تین ارب ڈالر کی لیوریج پر نہیں کرتے، ہم اپنے مفاد میں اپنے فارن پالیسی بناتے ہیں۔ پیغام یو اے سی سے بہت آگے تک پہنچا دیا گیا ہے کہ پاکستان کی پالیسی ساڑھے تین ارب ڈالر کی یرغمال نہیں بن سکتی۔
جو ہوا ہے ، ہماری جانب سے احترام اور وقار کے مروجہ دائرے میں رہ کر ہوا ہے۔ بغیر تلخی کے۔ لیکن اب ہمارے پیارا برادر اسلامی ملک بھی سوچ تو رہا ہو گا کہ ساڑھے تین ارب ڈالر کی حیثیت کیا تھی ، معمولی سی تو رقم تھی مگر اس کا ایک بھرم تھا ، پاکستان سے اونچی نیچی بات تو کر لیتے تھے ، اب تو پاکستان مقروض بھی نہیں رہا ۔ اب کس ” مان” سے بات کریں گے؟
اب آئیے اس سوال کی جانب کہ کیا پاکستان اس رقم سے محروم ہو کر دیوالیہ ہو جائے گا۔ ہر گز نہیں ۔ اول تو قومی خزانے میں ڈالرز کی جو کم سے کم شرح درکار ہے ، وہ یو اے ای کے ساڑھے تین ارب نکال کر بھی پوری ہے۔ مشکل تو ظاہر ہے ہو گی لیکن مشکلات ہوتی کس لیے ہیں ۔ نبٹنے کے لیے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار ملک ہے جو اپنی مالیاتی کمٹ منٹ مشکل سے مشکل وقت میں بھی پوری کرتا ہے۔
تیسری اہم بات یہ ہے کہ جو قرض پاکستان عشروں سے لیے بیٹھا تھا ، وہ اس نے ایک ہی ماہ میں اتارنے کا فیصلہ کر لیا۔
پاکستان درست سمت میں جا رہا ہے۔ پھر یہ کہ یو اے ای سے ہم کون سا روٹھ گئے ۔ مسلم دنیا سے ہم پہلے کب روٹھے ۔ ہم تو سب کے لے خیر ہیں ۔ تو کیا عجب ، جو رقم آج قرض تھی اور سود دینا پڑتا تھا ، یو اے ای وہی رقم یا اس کا کچھ حصہ کل پاکستان میں سرمایہ کاری میں لگا دے۔
ریاست کو باوقار ہونا چاہیے ، امکانات آتے رہتے ہیں ۔ پاکستان نے باوقار فیصلہ
Read more ............. CLICK HERE

