آپ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے لاہور کی طرف جرنیلی سڑک یعنی جی ٹی روڈ پر سفر کر رہے ہوں تو پانچ کلومیٹر کے بعد دریائے سواں کے قریب بائیں جانب تخت پڑی جنگلات کا رقبہ شروع ہو جاتا ہے۔ کسی زمانے میں، صرف 20 سال پہلے تک، یہاں جنگل ہوتا بھی تھا۔
لیکن اب یہاں پاکستان کے ایک بڑے پراپرٹی ڈویلپر ملک ریاض کے بحریہ ٹاؤن اور پاکستانی افواج کے زیر انتظام چلنے والے ادارے، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی یا ڈی ایچ اے، کے ولاز نظر آتے ہیں۔
تاہم پرتعیش عمارات والا یہ علاقہ جس زمین پر موجود ہے، وہ نہ صرف جنگلات کی زمین ہے بلکہ عدالتی تحقیقات کے مطابق تخت پڑی کے جنگلات پر تعمیرات قبضہ کر کے بنائی گئیں۔
تخت پڑی کے یہ جنگلات مبینہ غیر قانونی تعمیرات کی نذر تو کئی سال سے ہو رہے ہیں لیکن ان کا ذکر حال ہی میں پاکستانی میں انسداد بد عنوانی کے ادارے نیب کے ایک بیان میں ملتا ہے۔ نیب کے اس بیان میں الزام لگایا گیا کہ ’ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر کراچی، تخت پڑی راولپنڈی اور نیو مری میں زمینوں پر قبضے کیے۔
جج مظہر منہاس، جو اب ریٹائر ہو چکے ہیں، کی سنہ 2011 کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں درج ہے کہ تخت پڑی جنگل کی ’صفائی‘ بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے نے مل کر کی۔ بحریہ ٹاون اور ڈی ایچ اے قبضے کے الزامات کی تردید کرتے ہیں لیکن سپریم کورٹ کے سنہ 2018 کے ایک فیصلے کے مطابق بھی بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے نے سرکاری جنگلات اور شاملات کی اراضی پر ’قبضہ‘ کر رکھا ہے۔
ڈی ایچ اے ان جنگلات سمیت ملک میں کسی بھی جگہ پر ’قبضے‘ کی تردید کرتا ہے۔ فوج کے زیرانتظام چلنے والے اس ادارے کے مطابق ڈی ایچ اے نے ’تخت پڑی سمیت جنگلات کی زمین پر بھی قبضہ نہیں کیا اور ڈی ایچ اے کا سیکٹر ایف بھی بحریہ ٹاؤن کی ملکیت میں ہے۔‘
سپریم کورٹ آف پاکستان نے جنگلات کی جگہ پر قبضے کی شکایات پر محکمہ جنگلات اور سروے آف پاکستان کو نئے سرے سے ایک سروے کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد عدالت نے ان محکموں کی طرف سے جمع کرائی گئی تحریری رپورٹ اور سروے کا سنہ 2018 کے اپنے فیصلے میں حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’گوگل ارتھ‘ کے مطابق 17 اپریل 2005 تک پورا تخت پڑی جنگل اپنی جگہ پر موجود نظر آتا ہے جبکہ اس کے بعد نو اکتوبر 2005 تک درخت کاٹ دیے گئے اور جنگل کی جگہ تعمیرات شروع کردی گئیں۔‘
لیکن پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اور اس کے جڑواں شہر، یعنی اسلام آباد اور راولپنڈی، کے سنگم پر واقع دو ہزار ایکڑ سے زیادہ رقبے پر پھیلا جنگلات کا رقبہ دیکھتے ہی دیکھتے ہاؤسنگ سکیموں میں کیسے بدلا اور اس پورے معاملے میں بحریہ ٹاون اور ڈی ایچ اے کا کیا کردار رہا؟
اس کی کھوج لگانے کے لیے چوہدری نے متعدد عدالتی فیصلوں، انکوائری رپورٹس سمیت پولیس مقدمات کا جائزہ لیا اور اس کے عدالتی درخواست گزاروں، متاثرہ افراد اور متعلقہ حکام سے تفصیل سے بات بھی کی۔
چوہدری نے جن افسران سے سرکاری ریکارڈ تک دسترس حاصل کرنے کی بات کی تو انھوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر حامی بھری۔ ان کا مؤقف تھا کہ انھیں ان رہائشی منصوبوں کی جانب سے ’سخت دباؤ‘ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 2018 میں اپنے ایک فیصلے میں متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی تھیں کہ یہ قبضہ چھڑوایا جائے جس کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) نے عدالت کو متعدد سماعتوں پر بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں اور عدالتی فیصلے کے مطابق کارروائی آگے بڑھائی جائے گی تاہم محکمہ جنگلات پنجاب کے چیف کنزرویٹر آفیسر عبدالمقیت خان کہتے ہیں کہ ’اب تک ایسا نہیں ہو سکا۔‘
’ہمارا اب بھی یہی موقف ہے کہ سانس لینے کے لیے آکسیجن درکار ہے، لہٰذا جنگلات کی جس زمین پر قبضہ ہوا، وہ واپس دلائی جائے یا اس کے متبادل کوئی جگہ دی جائے۔
مفرور ملک ریاض اور تخت پڑی کے بارے میں نیب کا باضابطہ بیان
حال ہی میں نیب کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ملک ریاض ’عدالتی مفرور‘ ہیں اور ساتھ یہ تنبیہ بھی کی گئی کہ بحریہ ٹاؤن کے دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کو ’منی لانڈرنگ‘ تصور کیا جائے گا۔
ملک ریاض اس وقت دبئی میں مقیم ہیں اور نیب کا کہنا ہے کہ ’حکومتِ پاکستان قانونی چینلز کے ذریعے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے متحدہ عرب امارات سے رابطہ کر رہی ہے۔‘
نیب کے اس بیان میں بتایا گیا کہ ’ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر کراچی، تخت پڑی راولپنڈی اور نیو مری میں زمینوں پر قبضے کیے اور ملک ریاض نے سرکاری اور نجی اراضی پر ناجائز قبضہ کر کے بغیر اجازت نامے کے ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کرتے ہوئے لوگوں سے اربوں روپے کا فراڈ کیا۔‘
اس بارے میں ملک ریاض سے بھی مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا مگر انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ملک ریاض حسین کے سٹاف سکیریٹری کرنل خلیل الرحمان نےچوہدری کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ’چونکہ یہ مقدمہ ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے اس لیے بحریہ ٹاؤن عدالت کے سامنے پیش ہو کر اپنا موقف پیش کرے گا۔
تاہم نیب کے بیان کے بعد ملک ریاض نے اس وقت سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کا استعمال کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے نیب کی جانب سے مختلف شہروں میں سرکاری زمینوں پر قبضے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ نیب کا ’بے سروپا پریس ریلیز دراصل بلیک میلنگ کا نیا مطالبہ ہے۔ ہم نے پاکستان سمیت دنیا کے ہر ملک کے قانون کی پاسداری کی ہے اور ہمشہ کرتے رہیں گے۔‘
انھوں نے نیب کے بیان کو ملک میں سیاسی صورتحال سے جوڑتے ہوئے نیب پر بلیک میلنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ کسی کے خلاف گواہی دیں گے اور نہ ہی کسی کے خلاف استعمال ہوں گے۔‘ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’گواہی کی ضد‘ کی وجہ سے بیرون ملک منتقل ہوئے ہیں۔
لیکن تخت پڑی جنگلات کا معاملہ کچھ اور کہانی سناتا ہے۔
راولپنڈی: تخت پڑی جنگل پر قبضے کی داستان
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق جنگلات کی زمین پر بحریہ ٹاؤن کے نام 483.99 ایکڑ زمین کا قبضہ سرکاری دستاویزات کا حصہ ہے۔
اس رقبے میں سے 163.36 ایکڑ بحریہ ٹاؤن کے فیز ایٹ میں شامل کر دی گئی۔ ’بحریہ سپرنگ نارتھ‘ کو 185.17 ایکڑ دی گئی۔ اوورسیز سیکٹر ون کے لیے 5.29 ایکڑ جبکہ گارڈن سٹی کے تین سیکٹرز کے لیے 110.17 ایکڑ جنگلات کی زمین کام میں لائی گئی۔
تخت پڑی جنگلات کی تقریباً 300 ایکڑ زمین پر اب ڈی ایچ اے کی تعیمرات ہیں۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق تخت پڑی جنگلات کی زمین میں سے ڈی ایچ اے تھری میں 9.01 ایکڑ، ڈیفنس ولاز کے لیے 74.84 ایکڑ، ڈی ایچ اے کے سیکٹر ایف کے لیے 202.48 ایکڑ زمین شامل کی گئی۔
بحریہ ٹاؤن نے ڈی ایچ اے کو بھی زمین ٹرانسفر کی اور بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے نے مل کر جنگلات کی زمین میں سے 754.92 ایکڑ زمین اپنے رہائشی منصوبے کا حصہ بنا دی۔
چوہدری کو سرکاری جنگلات کی حد بندی سے متعلق جنگلات، ریونیو اور سروے آف پاکستان کے نقشے دستیاب ہوئے، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بحریہ ٹاؤن اور افواج پاکستان کے رہائشی منصوبے ڈی ایچ اے نے ندی نالوں، ڈیموں اور دریاؤں کے قریب واقع سرکاری جنگلات کی زمینوں پر نہ صرف قبضے کیے ہیں بلکہ وہاں بڑے حصے پر تعمیرات بھی کر دی ہیں۔
ڈی ایچ اے کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ دراصل ان کے ملک ریاض کے ساتھ جو معاہدات تھے ان کے تحت انھیں زمین ملک ریاض نے ایکوائر کر کے دینی تھی اور یہ کام خود فوج یا ڈی ایچ اے نے نہیں کیا۔
تخت پڑی جنگلات کی زمین سے متعلق کیا تنازع پیدا ہوا؟
تخت پڑی جنگلات کا کل رقبہ 2210 ایکڑ بنتا ہے جس کا واضح ثبوت سنہ 1886 سے لے کر آج تک محکمہ جنگلات اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ کا دستیاب ریکارڈ اور نقشے ہیں۔
جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کے دور حکومت میں ان کے کہنے پر ہونے والی حد بندی کے دوران راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے جو نقشے تیار کروائے ہیں ان کے مطابق یہ زمین صرف 1741 ایکڑ ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ریٹائرڈ جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس مقبول باقر اور جسٹس فیصل عرب نے تحریر کیا تھا۔
13 نومبر 2018 کو سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک عدالتی فیصلے میں لکھا کہ جنگلات کی زمین بحریہ ٹاؤن کو منتقل کرنے پر سابق وزیر اعلیٰ پرویز الہیٰ کے خلاف نیب کا ’فٹ کیس‘ بنتا ہے کہ وہ ان کے خلاف ریفرنس دائر کرے۔
سابق وزیر اعلی پرویز الہیٰ کے ترجمان اور میڈیا کوآرڈینیٹر چوہدی محمد اقبال نے چوہدری کو بتایا کہ ’پرویز الہیٰ پر یہ الزامات ثابت نہیں ہوئے اور نہ انھوں نے ایسا کچھ کیا۔‘ ان کے مطابق ’عدالت میں بھی اس حوالے سے ہمارا یہی مؤقف رہا ہے۔‘
تاہم سپریم کورٹ نے درست حد بندی کے لیے محکمہ جنگلات، ریونیو اور سروے آف پاکستان پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی جس نے پہلی حد بندی کو غلط قرار دیا۔
عدالت میں جمع کروائی گئی محکمہ جنگلات اور سروے آف پاکستان کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ’گوگل ارتھ‘ کے مطابق 17 اپریل 2005 تک پورا تخت پڑی جنگل اپنی جگہ پر موجود نظر آتا ہے جبکہ اس کے بعد نو اکتوبر 2005 تک درخت کاٹ دیے گئے اور جنگل کی جگہ تعمیرات شروع کر دی گئیں۔
ان تعمیرات کے لیے بحریہ ٹاؤن نے سمری 16 مارچ 2007 کو بھیجی لیکن نو جولائی 2007 تک تعمیرات کر دی گئی تھیں۔
READ MORE ARTICAL'S 👇