شیر بمقابلہ بکرے کی انوکھی کہانی
گھنے جنگل کے بیچوں بیچ، جہاں سنہری گھاس ہوا کے ساتھ جھومتی تھی، ایک شیر رہتا تھا جس کا نام زرّان تھا۔ زرّان جنگل کا بے تاج بادشاہ تھا۔ اس کی دھاڑ سے پورا جنگل کانپ جاتا تھا، اور کوئی بھی جانور اس کے سامنے کھڑا ہونے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔ لیکن ایک دن، ایک انوکھا چیلنج سامنے آیا—ایک پہاڑی بکرا جس کا نام برّان تھا۔
برّان کوئی عام بکرا نہیں تھا۔ وہ زوریہ پہاڑ کی پتھریلی چوٹیوں پر پیدا ہوا تھا، جہاں ہوا پتلی اور زندگی گزارنا ایک فن تھا۔ اس کے سینگ ہلال کی شکل کے تھے، اور اس کی ٹانگیں پرانے درختوں کی جڑوں کی طرح مضبوط تھیں۔ برّان نے زرّان کی بہادری اور جنگل پر اس کی حکمرانی کی کہانیاں سن رکھی تھیں۔ لیکن برّان کا ماننا تھا کہ اصل بہادری طاقت میں نہیں، بلکہ اپنے حق کے لیے کھڑے ہونے کے عزم میں ہے۔
SEE FULL VIDEO 📸 CLICK HERE
ایک دن، برّان نے جنگل کے درمیان شیر کو چیلنج دے دیا۔ جانوروں کا مجمع لگ گیا۔ ہر کوئی حیرت زدہ تھا کہ ایک بکرا شیر کو کیسے للکار سکتا ہے۔ زرّان نے بکرے کو حقارت بھری نظر سے دیکھا اور بولا:
"تم ایک معمولی بکرا ہو۔ میری ایک دھاڑ سے تم بھاگ جاؤ گے!"
لیکن برّان مسکرایا اور بولا:
"بادشاہت دھاڑ سے نہیں، ہمت اور حکمت سے ثابت ہوتی ہے۔ اگر آپ واقعی بادشاہ ہیں، تو میرے ساتھ پہاڑ پر آکر مقابلہ کریں۔"
زرّان، جو اپنی طاقت پر غرور کرتا تھا، نے یہ چیلنج قبول کر لیا۔ دونوں پہاڑ کی اونچائی کی طرف بڑھے۔ برّان اپنی چست اور پھرتیلی ٹانگوں سے باآسانی چڑھ رہا تھا، جبکہ زرّان کی طاقتور مگر بھاری جسمانی ساخت اسے تھکا رہی تھی۔ جب وہ چوٹی پر پہنچے، تو برّان بولا:
"بادشاہ وہ ہوتا ہے جو ہر میدان میں خود کو ثابت کرے، نہ کہ صرف اپنی دھاڑ پر بھروسہ کرے۔"
زرّان کو احساس ہوا کہ وہ صرف طاقت کے زور پر بادشاہ نہیں رہ سکتا۔ اس نے پہلی بار عاجزی کا مظاہرہ کیا اور بکرے کو سراہا۔ جنگل کے باقی جانوروں نے بھی برّان کی ہمت کو سراہا اور اسے "عقل مند پہاڑی بکرا" کا خطاب دیا۔
یوں، یہ کہانی جنگل بھر میں مشہور ہوئی کہ اصل بہادری نہ صرف طاقت، بلکہ حکمت اور حوصلے میں ہوتی ہے۔
READ : Manchester City vs Chelsea: A Battle of Football Titans
READ : Broiler chicken and its importance to humanity برائلر مرغی اور انسانیت کے لیے اس کی اہمیت
READ MORE BLOG'S CLICK HERE